18 جولائی 2026 - 18:26
اسرائیلی مصنفہ کا اعتراف: سنوار جنگِ بیانیہ میں کامیاب، فلسطین کے حق میں عالمی رائے عامہ بدل گئی

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی مصنفہ لیلاخ سیگان نے عبرانی روزنامہ معاریو میں شائع اپنے مضمون میں اعتراف کیا ہے کہ حماس کے غزہ کے سربراہ یحییٰ السنوار جنگِ بیانیہ میں اپنے اہم ترین مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور فلسطینی کاز کے حق میں عالمی رائے عامہ کو بڑی حد تک تبدیل کر دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی مصنفہ لیلاخ سیگان نے عبرانی روزنامہ معاریو میں شائع اپنے مضمون میں سات اکتوبر 2023 کے حملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ یحییٰ السنوار اس کارروائی کو صرف عسکری نقطۂ نظر سے نہیں دیکھتے تھے، بلکہ ان کا اصل ہدف عالمی سطح پر فلسطینی بیانیے کو مضبوط کرنا اور فلسطینی عوام کے قومی حقوق کے لیے عالمی ہمدردی حاصل کرنا تھا۔

انہوں نے لکھا کہ السنوار کے مارے جانے کے باوجود وہ اپنے ایک اہم مقصد، یعنی فلسطین کے مسئلے کے بارے میں بین الاقوامی رائے عامہ کو تبدیل کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کے مطابق، آج فلسطینی ریاست کے قیام کی عالمی حمایت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، جبکہ اسرائیل کی مقبولیت، حتیٰ کہ امریکہ میں بھی، نمایاں طور پر کم ہوئی ہے اور متعدد عوامی جائزوں میں فلسطینیوں کے لیے ہمدردی اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

اسرائیلی مصنفہ نے اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کابینہ نے صرف فوجی محاذ پر توجہ مرکوز رکھی اور عالمی رائے عامہ یا جنگِ بیانیہ کے محاذ کو نظر انداز کر دیا، حالانکہ صرف عسکری کامیابی کافی نہیں بلکہ عالمی افکار پر اثرانداز ہونا بھی ضروری ہے۔

لیلاخ سیگان نے کینیڈا میں شائع ہونے والی سیاسی مشیر والٹر کِنسلا کی کتاب "دی ہڈن ہینڈ" کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی عالمی تشہیری مہم اچانک وجود میں نہیں آئی، بلکہ اس کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں، دباؤ ڈالنے والے گروہوں، سماجی کارکنوں اور احتجاجی تحریکوں کے ذریعے مغربی سیاست، میڈیا اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم نے مغربی ممالک میں آبادیاتی تبدیلیوں سے بھی فائدہ اٹھایا، جبکہ اسرائیل اس بیانیے کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہا۔

مصنفہ نے امریکہ کے تعلیمی اور ثقافتی حلقوں میں اسرائیلی اور یہودی آوازوں کے محدود ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بعض حلقوں میں اسرائیلی اور یہودی مصنفین کو نظر انداز کرنے کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔

مضمون کے اختتام پر لیلاخ سیگان نے کہا کہ اسرائیلی حکومت عالمی سطح پر جنگِ بیانیہ میں مسلسل ناکامی کے باوجود اپنی توجہ داخلی سیاسی تنازعات، جیسے فوجی خدمت سے متعلق قوانین اور عدالتی اختلافات، پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جس کے باعث وہ بین الاقوامی محاذ پر مزید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha